Saturday 16 August 2014

kabhi safar to kabhi shaam le gaya mujh ko

kabhi safar to kabhi shaam le gaya mujh ko



کبھی سفر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے

مجھے خبر نہ ہوئی اور زمانہ جاتے ہوئے
نظر بچا کے تیرا نام لے گیا مجھ سے

اسے زیادہ ضرورت تھی گھر بسانے کی
وہ آ کے میرے در و بام لے گیا مجھ سے

بھلا کہاں کوئی جز اس کے ملنے والا تھا
بس ایک جرات ناکام لے گیا مجھ سے

بس ایک لمحے کے سچ جھوٹ کے عوض فرحت
تمام عمر کا الزام لے گیا مجھ سے

No comments:

Post a Comment